اور پھر میں نے وہاں صبر کر لیا جہاں لوگوں کے لہجے ان کے منہ پر مارنے تھے
کبھی کبھی زندگی ایسی ٹھوکر مارتی ہے کہ انسان سیدھا سجدے میں جا گرتا ہے
محبت میں لاپرواہی کہاں جچتی ہے بھلا محبت میں خیال یار تو فرض بن جاتا ہے
میں نے رشتوں پہ اعتبار کیا اور پھر مجھ کو کھا گئے رشتے
صفائی دینا مجھے زہر لگتا ہے آپ نے تعلق ختم کرنا ہے تو بسم اللّٰہ کیجئے
کسی نے پاس رہ کر بھی ٹھکرایا مجھے کسی نے دور سے دیکھ کر بھی صدقے اتارے
Mashwara bholne ka Hum ko yun dene walo Tum se bichra hai kabhi apna tumhara koi