Showing posts from September 16, 2018Show All
دِیا جلائیں بجھائیں ، الاؤ اپنا ھے
ترا خیال کبھی اس طرح مجسم ہو
دعا کا ٹوٹا ہوا حرف' سرد آہ میں ہے
میں چاہتا تھا مجھ سے بچھڑ کر وہ خوش رہے
شجر جب بھی لگاؤ تم پرکھ لینا زمینوں کو
وہ جو کہتے تھے بچھڑیں گے نہ ہم کبھی
میں جو دن کو بھی کہوں رات، وہ اقرار کرے
آج میں نے تلاش کیا اسے اپنے آپ میں
اب تو خواہش ہے کہ یہ زخم بھی کھا کر دیکھیں
فاصلوں کو ہی جدائی نہ سمجھ لینا تم
دُکھ تو یہ ھے خوشی کے موقع پر
ہم وہ ہیں جو خدا کو بھول گئے
وہ ثمر تھا میری دُعاؤں کا، اُسے کس نے اپنا بنا لیا