دِیا جلائیں بجھائیں ، الاؤ اپنا ھے
ترا خیال کبھی اس طرح مجسم ہو
دعا کا ٹوٹا ہوا حرف' سرد آہ میں ہے
میں چاہتا تھا مجھ سے بچھڑ کر وہ خوش رہے
شجر جب بھی لگاؤ تم پرکھ لینا زمینوں کو
وہ جو کہتے تھے بچھڑیں گے نہ ہم کبھی
میں جو دن کو بھی کہوں رات، وہ اقرار کرے